25 جولائی 2026 - 18:20

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف وسیع فوجی حملے کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم ان کے بقول تہران مذاکرات میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوجی آپشن بدستور زیر غور ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے ابھی تک ایران کے خلاف کسی "وسیع فوجی حملے" کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران مذاکراتی عمل میں "روز بروز زیادہ سنجیدگی" کا مظاہرہ کر رہا ہے، جس نے امریکی حکام کی صورتحال سے متعلق تشخیص کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے ایران کے حوالے سے دی گئی یقین دہانیوں پر اعتماد ہے۔

ٹرمپ اس سے قبل بھی دعویٰ کر چکے ہیں کہ چین اور روس نے ایران کو ہتھیار فروخت یا فراہم نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے، جبکہ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اس حوالے سے کسی بھی اقدام سے بیجنگ اور ماسکو کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

امریکی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حالیہ ہفتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے اندر بعض اہداف پر حملے کیے، جبکہ اس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکہ سے منسلک بعض اڈوں اور تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

اگرچہ جون میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی روکنے اور مذاکرات کے آغاز کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے، تاہم بعد ازاں تناؤ دوبارہ بڑھ گیا۔ امریکہ نے ایران پر آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس اہم بحری گزرگاہ میں آزادانہ جہاز رانی کی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس آبی راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں کی نگرانی اور انتظام ضروری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha